حق کی خاطر صبر کرنے کاصلہ جنت ہے

حق کی خاطر صبر کرنے کاصلہ جنت ہے
حق کی خاطر صبر کرنا اور استقامت کے ساتھ حق پر ڈٹےرہنے کاصلہ آخرت میں جنت ہے۔ چنانچہ سورۂفرقان میں اللہ تعالیٰ، رحمن کے ’’بندں کی صفات اور ان کے کردار کو ذکر کرکے آخر میں فرماتاہے۔‘‘ اُوْلٰٓئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَاصَبَرُوْاوَیُلَقَّوْنَ فِیْھَاتَحِیَّۃً وَّسَلٰمًا ۞ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاحَسُنَتْ مُسْتَقَرًّاوَّمُقَامًا۞ ’’یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے (جنت کے) بالاخانے ملیں گے اور ان میں ان کادُعااور سلام کے ساتھ استقبال کیاجائے گا،وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، وہ خوب جگہ ہےٹھہرنے کی اور خوب جگہ ہے رہنے کی۔‘‘   (سورۃالفرقان: آیت ۷۵)
اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ اچھے اوصاف پیداکرنا اور ان کو برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ اس کے لیے صبرواستقامت کی ضرورت ہے۔ 
*صبرکرنے والوں کو بے حدوبےحساب اجرملے گا*
صبر کرنے والوں کوان کااجر بے حساب دیاجائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:قُل یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْااتَّقُوْارَبَّکُمْ ط لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوافِی ھٰذِہٖ الدُّنیَاحَسَنَۃٌ وَاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ ط اِنَّمَایُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِحِسَابٍ۞ ’’(اے پیغمبر!)کہہ دو کہ اے میرے بندو جوایمان لائے ہو! اپنے رب سے تقویٰ اختیارکرو(اور یاد رکھوکہ) ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دنیا میں اچھے اعمال کیے نیک صلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بڑی وسیع ہے، بے شک صبر کرنے والوں کوان کا اجر بے حساب دیاجائے گا۔‘‘    (سورۂزمر:آیت ۱۰)  
اس آیتِ کریمہ میں ایمان والوں کوایمان وتقویٰ اور صبر کی ترغیب و تسلی اور خوشخبری دے دی گئی ہے کہ جولوگ ایمان وتقویٰ کو اپناشعار بنائیں گے اور اس دنیا میں نیکی اور بھلائی کی زندگی بسرکریں گے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں اچھا اور نیک صلہ ہے۔ اس راہ میں جو مصائب او ر مشکلات پیش آئیں ان کو عزم او ر ہمت سے برداشت کرو۔ اگر تم دیکھو کہ تمہارا ملک اور وطن تم پر تنگ کردیاگیا ہے اور اس ملک اوروطن میں تمہارے لیے اللہ کے دین پر قائم رہناناممکن بنادیاگیاہے تو پھر بھی شکستہ دل اور مایوس نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی زمین بڑی وسیع ہے ،کسی ایسی جگہ ہجرت کرو جہاں تم بے خوف وخطراپنے رب کی پوری بندگی کرسکو، بلاشبہ یہ راہ بڑی سخت آزمائشوں کی ہے لیکن اطمینان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے جو بندے ان آزمائشوں میں حق پرثابت قدم رہیں گے توان کو ان کاصلہ اور اجر بھی ان کی توقعات اور ان کے اندازوں سے بڑھ کر اتنا  بے حساب ملے گا جس کاتم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ 
یہ چند آیتیں بطورِنمونہ پیش کیں جن سے یہ اندازہ بخوبی ہوسکتاہے کہ صبرواستقامت میں دنیا وآخرت کی کامیابی ہے۔ صبر میں انسان تھوڑی تکلیف اور کم نقصان کو برداشت کرکے بڑی تکلیف اور زیادہ نقصان وخسران سے بچ جاتاہے اور بہت بڑے آرام وسکون اور ابدی خوشیوں کوحاصل کرلیتاہے۔ صبر ہی ایسی نعمت ہے جس کی بدولت انسان کو قوتِ برداشت، غصہ پر قابو ، لوگوں کی ایذارسائی سے حفاظت وغیرہ جیسی عظیم نعمتیں ملتی ہیں اور یہی صبر ہے جوانسان کو جلدبازی اور زود رنجی سے محفوظ کرکے اُسے بردباری ، سنجیدگی اور نرمی کاخوگر بناتاہے اور اسی صبر کی بدولت اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت ومددملتی ہے۔ صابرشخص پر آنے والی ہر تکلیف  ومصیبت اس کے گناہوں کی الائشوں کودھودیتی ہے اور اس کے لیے قُرب الٰہی کاذریعہ بنتی ہے، اس سے اُس کے جوہر کھلتے ہیں اور یہی تکالیف ومصائب اس کے لیے دنیا وآخرت کی ترقیات اور سرخروئی کاذریعہ بن جاتے ہیں۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

23 march why we celebrate ?

کرونا وائرس سے کیسے بچیں