شاہ فیصل مسجد کے بارے میں زبدست حقاٸق
شاہ فیصل مسجد
پاکستان کی سب سے بڑی مسجد ہونے کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشإ کی سی بہی سب سے بڑی اور عظیم شان مسجد ہے شاہ فیصل مسجد اسلام آباد کے ایک کونے میں مرگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے جوکہ مرگلہ کے دامن میں ایک حوبصورت اور دلکش منظر پیش کرتی ہے یہ1951 میں پاکستان اور سعودیہ کے دوستانہ تعلقات کی وجہ سے تعمیر کی گٸ ہے 1953 میں سعود بن عبدالعزیز سعودیہ کے نیے بادشاہ بنے اور 1954 میں انہوں نے دورہ پاکستان کیا سعود بن عبدالعزیز نے پاکستان اور سعودی تعلقات اچھی طرح سے نبھایا اور پھر 1964 میں شاہ فیصل سعودیہ کے بادشاہ بنےشاہ فیصل نےپاکستانااور سعودیہ کے تعلقات کو مزید پروانے چڑانے کےلیے اپریل 1966 میں پاکستان کا دورہ کیا اور اسلامآباد کے دلکش پہاڑیوں کے دامن میں مسجد بنانے کی تجویز پیش کی اور تعمیرات کے لیے ایک ترکیش ڈیزاٸنر کو منتحب کیا گیا اور شاہ فیصل نے مسجد کے تعمیر کے لیۓ دس لاکھ ڈالر پیش کیۓ اور اس کے بعد 19976 میں اعظم خان کی زیر نگرانی تعمیر کا کام شروع ہوا اور مسجد کی تعمیر کا کام اوپر والے حصے سے شروع ہوا اوپر والے حصے سے اسلیۓ شروع کیا گیا مسجد کے اندرونی ہال میں کویٸ ستون نہیں ہے 13 سال کے عرصے تعمیر کے بعد تعمیر کا کام مکمل ہوگیا مسجد کے اندرونی ہال میں ایک لاکھ نمازیوں کی ایک وقت میں گنجاٸش ہے جبکہ مسجد کے بیرونی حصے میں دو لاکھ نمازی ایک وقت میں نماز ادا کر سکتے ہیں شاہ فیصل مسجد 5000 مربع میڑ پر پر مشتعمل ہے اور رقبہ کے لحاظ سےدنیا کی چھٹی بڑی مسجد ہے مسجد کے چار مینار ہیں ہر مینار کی انچاٸی90میڑ ہےمسجد میں خوبصورت تالاب بھی ہے جس میں پانی کے فوارے لگے ہویۓ ہیں جوکہ تالاب کی خوبصورتی کو دوبالہ کرتے ہیں مسجد 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے جبکہ اندرونی ھال کو صرف نماز کے ٹاٸم ہی کھلا جاتا ہے مسجد کے اندورنی ھال میں کیمرا استعمال کی اجازت نہیں جب کہ بہرونی ہال میں کیمرا استعمال کی اجازت ہے مسجد کے دروازے پر ضیإالحق کا مزار ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں