حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کی بہادری
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کی بہادری
پھر میں نے اپنے نیزے کو ہلایا اور جب مجھے اطمینان ہوگیا (کہ نیزہ نشانے پر جاکر لگے گا) تو میں نے ان کی طرف نیزہ پھینکا جو ان کی ناف کے نیچے جاکر اس زور سے لگا کہ دونوں ٹانگوں کے درمیان میں سے پیچھے نکل آیا۔ وہ میری طرف اٹھنے لگے لیکن ان پر بے ہوشی طاری ہوگئی ۔ پھر میں نے ان کو اور نیزے کو اسی حال پر چھوڑ دیا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ پھر میں ان کے قریب گیا اور اپنا نیزہ لے لیا اور پھر اپنے لشکر میں واپس جاکر بیٹھ گیا۔ حضرت حمزہ کو قتل کرنے کے علاوہ مجھے اور کوئی کام نہیں تھا اور میں نے ان کو اس لیے قتل کیا تھا کہ میں آزاد ہوجاؤں ۔ چنانچہ جب میں مکہ آیا تو میں آزاد ہوگیا ۔ پھر میں وہیں ٹھہرارہا یہاں تک کہ جب حضور ﷺنے مکہ فتح کرلیا تو میں بھاگ کر طائف چلا گیا اور وہاں جاکر ٹھہر گیا۔ پھر طائف کا وفد مسلمان ہونے کے لیے حضور ﷺکی خدمت میں گیا تو سارے راستے مجھ پر بند ہوگئے اورمیں نے کہا کہ شام چلا جاؤں یا یمن یا کسی اور جگہ میں ابھی اسی سوچ میں تھا کہ ایک آدمی نے مجھ سے کہا تیرا بھلا ہو، اللہ کی قسم! جو بھی کلمۂشہادت پڑھ کر حضرت محمد ﷺکے دین میں داخل ہوجاتاہے حضرت محمدﷺاسے قتل نہیں کرتے ہیں جب اس آدمی نے یہ بات مجھے بتائی تو میں (طائف سے) چل پڑا ،یہاں تک کہ میں مدینہ حضور ﷺکی خدمت میں پہنچ گیا(حضور ﷺکو میرے آنے کا پتا نہ چلا بلکہ جب میں آپ کے سرہانے کھڑا ہوکر کلمہ شہادت پڑھنے لگا تو آپ ایک دم چونکےجب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا :کیا تم وحشی ہو؟ میں نے کہا: یارسول اللہ! جی ہاں۔ آپ نے فرمایا :بیٹھ جاؤ اور مجھے تفصیل سے بتاؤ کہ تم نے حضرت حمزہ کوکیسے قتل کیا تھا؟جب میں سارا واقعہ بیان کرچکا تو آپ نے مجھ سے فرمایا :تیرا بھلا ہو، تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا لومیں تمہیں آئندہ کبھی نہ دیکھوں (یعنی تم سامنے مت آیا کرو اس سے مرے چچا کے قتل کا غم تازہ ہوجاتا ہے چنانچہ حضورﷺجہاں ہوا کرتے تھے میں وہاں سے ہٹ جایا کرتا تھاتاکہ حضور ﷺکی نظر مجھ پر نہ پڑے اور حضور ﷺکی وفات تک میں ایسے ہی کرتا رہا۔
جب مسلمان یَمامہ والے دن مسیلمہ کذّاب سے مقابلے کے لیے چلے تو میں بھی ان کے ساتھ گیا اور میں نے اپنے جس نیزے سے حضرت حمزہ کوشہید کیا تھا اس نیزے کو بھی ساتھ لے لیا ۔ جب دونوں لشکروں میں لڑائی شروع ہوئی تو میں نے دیکھا کہ مسیلمہ کھڑا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ میں تلوار ہے اور میں اس کو پہچانتا نہیں تھا ۔ میں اسے مارنے کی تیاری کرنے لگا اور دوسری طرف سے ایک انصاری آدمی بھی اسے مارنے کی تیاری کرنے لگا ۔ ہم دونوں اسی کو قتل کرنا چاہتے تھے ۔ چنانچہ میں نے اپنے نیزے کو حرکت دی اور جب مجھے پورا اطمینان ہوگیا کہ نیزہ نشانے پر لگے گا تو وہ نیزہ میں نے اس کی طرف پھینکا جو اسے جاکر لگااور انصاری نے بھی اس پر حملہ کیا اور اس پر تلوار کا بھرپور وار کیا ۔ تمہارا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ ہم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے۔ اگر میں نے اسے قتل کیا ہے تو پھر میں نے ایک تو وہ آدمی قتل کیا ہے جو حضور ﷺکے بعد تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بہترین تھا، اور ایک وہ آدمی قتل کیا ہے جو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ برا تھا۔ (حیات الصحابہ : ۷۰۴/۱-۷۰۱)
اسی جیسی حدیث امام بخاری ؒ نے حضرت جعفر بن عمرو سے روایت کی ہے اور اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ جب دونوں لشکر جنگ کے لیے صف بنا کر کھڑے ہوگئے تو سباع لشکر سے باہر نکلا اور بلند آواز سے کہا کہ کوئی میرے مقابلہ پرآنے کے لیے تیار ہے ؟ چنانچہ اس کے مقابلہ کے لیے حضرت حمزہ بن عبد المطلب مسلمانوں کے لشکر سے باہر نکلے اور اس سے کہا: اے سباع! اے عورتوں کاختنہ کرنے والی عورت اُمّ انمار کے بیٹے !کیا تم اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کررہے ہو؟ پھر حضرت حمزہ نے سباع پر ایک زوردار حملہ کرکے اسے ایسے مٹادیا جیسے کہ گزرا ہوا دن ہوتا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں