شاہی قعلہ لاہور

پاکستان کے تاریخی وارثوں میں جہاں اور بہت ساری عمارتیں ہیں وہاں ہمیں شاہی قعلہ بھی نظر آتا ہے۔شاہی قعلہ اور مغل خاندان کا آپس میں گیھرا تعلق ہے۔موجودہ قعلے کی تعمیرجلال الدین اکبر(اکبربادشاہ )نے1556 میں شروع کروایٸ تھی  تا ہم تاریخ میں سب سے پہلے اس قعلے کی بنیاد سلطان محمود غزنی نےنے 12 صدی میں رکھی۔اس وقت اس قلعے کی تعمیر مٹی کے گھارے سے کی گیٸ تھی۔1241 میں لاہور پر مغلوں نے خملہ کیا ۔اس خملے میں یہ قعلہ بھی تباہ ہو گیا۔پھر 1267 میں سلطان گل کے زامانے میں اس کی دوبارہ تعمیر شروع کرایٸ گٸ ۔اور پھر 1398 میں امیر تیمور نےجب لاہور پر فوج کیشی کی تو تباہی ایک بار پھر اس قلعے کا مقدر بنی۔مبارک شاہ نے 1461 میں اس کو دوبارہ تعمیر کروایا۔یوں یہ قلعہ مختلف لوگوں کےہاتھوں سے ہوتا ہوا1526 میں مغلوں کے پاس آیا۔1556 میں جب اکبر بادشاہ تخت نشین ہوۓ تو اس قلعلے کی دوباراہ تعمیر کروایٸ گٸ۔ جس سے کی دو بڑی ضروریات پوری کی گٸ۔ ایک فوج کی ضرورت اور دوسرا شاہی خاندان اور اجنبی مہمانوں کی رہاٸش کا م لیا گیا۔اکبر بادشاہ کے زامانے میں جب یہ تعمیر کیا گیا تودریاۓ بلکل اس کے قریب سے گزارتا تھا۔یو اکبر بادشاہ کے بعد جہنگیر بادشاہ نے اس کو دوبارہ تعمیرکرویا اور اس بار اس قلعے کےساتھ مسجدمریم زامانی بیگم کی تعمیر بھی کروایٸ گٸ۔اور پھر شاہ جہان نے دوبارہ 1645 میں اس قعلے کو اپنی مرضی سے تعمیر کروایا۔جس میں دیوانِ عام۔شاہ برج۔اور شیش مخل قابل زکر ہے۔شاہ جہان کے بعد عالمگیر اخری بادشاہ تھا اس نے بھی اس قلعے میں کچھ تعمیری کا م کروایا۔18 صدی میں یہ قعلہ مغلوں کے ہاتھوں سے نکل کر سکھوں کے پاس چلاگیا۔اوراس کے بعد1857 کی جنگ ازادی میں یہ قعلہ انگریزوں کے پاس چلاگیا۔انگریزوں نے اس پر مکمل طور پر قبضہ کر لیا ۔اور اس کو اپنی رہاٸش کے ساتھ ساتھ فوجی مقاصد کے لیۓ استعمال کیاجانے لگا۔پھر یہ قعلہ 1947 تک انگریزوں کے پاس ہی تھا۔پھر جب 1947میں برِصغیر اور پاک وہند کی تقسیم ہویٸ جب پاکستان وجود میں آیاتو یہ قعلہ پاکستان کے پاس اگیا۔یہ قلعہ لاہور میں واقعہ ہے ۔اس کےدو اہم دروازے ہیں۔اکبری دروازہ اور عالمگیری دروازہ۔1981 میں اقوام متخدہ کے یونسکو نے اس کو اپنی فہرست میں شامل کیا۔جس کا مطلب ہے یہ ایک بین القوامی اثاثہ ہے اور 2006 میں پنجاب حکومت نے دوبارہ اس کی حوبصورتی کے لیے کام کیا۔
Shahi qala lahor

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

23 march why we celebrate ?

کرونا وائرس سے کیسے بچیں