حکومت مالی مشکلات کا شکار وفاقی مازمین کی تتنحواہ بڑھانے کے لیے پیسہ نہیں

اسلام آباد :… وفاقی کابینہ نے منگل کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے پر تفصیلی بحث کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ وفاقی سیکریٹریٹ کے ملازمین کے مطالبے کے مطابق تنخواہوں میں 100؍ فیصد اضافہ دینے کیلئے رقم نہیں ہے۔ یہ ملازمین گزشتہ ہفتے سے قلم چھوڑ ہڑتال پر ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے معاون برائے امور خزانہ حفیظ شیخ سے کہا ہے کہ وہ مظاہرہ کرنے والے سیکریٹریٹ ملازمین سے رابطہ کریں تاکہ جاری ہڑتال ختم کرائی جا سکے۔ کابینہ نے یہ فیصلہ سنگین مالی مشکلات کی وجہ سے کیا ہے، جس اضافے کی منظوری دی گئی اس کا اطلاق آئندہ مالی سال یعنی یکم جولائی 2020ء سے ہوگا۔ کابینہ کو وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ سیکریٹریٹ کے ملازمین کا 100؍ فیصد اضافے کا مطالبہ مان لیا جائے۔ کابینہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر وقتاً فوقتاً سرکاری ملازمین کے مخصوص گروپس کو تنخواہوں میں خصوصی اضافے دینے کی وجہ سے تنخواہوں کا ڈھانچہ بری طرح خراب ہو چکا ہے۔ تنخواہوں کے یکساں اسکیل کی اسکیم کی خرابی کے ساتھ اس طرح کے امتیازی اضافے کی وجہ سے سرکاری ملازمین میں اضطراب پایا جا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

23 march why we celebrate ?

کرونا وائرس سے کیسے بچیں