قلعہ روہتاس جہلم پنجاب
قلعہ رو ہتاس صوبہ پنجاب میں جہلم کے علاقے دینہ کے بلکل
قریب واقع ہے۔ اس کی تعمیر شیخ شاہ سوری نے 1541 اور 1548 عیسوی کے درمیانی عرصے میں کرواٸی ہے۔اس کو تعمیر کروانے کی دو بڑی وجوہات تھیں۔
نمبروجہ1
مغل بادشاہ ہمایوں شیخ شاہ سوری سےشکست کھا کرفرار ہو گیاتھا۔شیخ شاہ سوری کو خدشہ تھاکہ وہ واپس آیا تو اس کی خکومت کے لیے خطرہ بنے گا۔اس کا راستہ روکنے کے لیےشیخ شاہ سوری نے اس علاقے میں یہ قلعہ تعمیر کروایاتھا۔
وجہ نمبر 2
اس قلعے کو تعمیر کروانے کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی اس علاقے یعنی کوٹھ وار مقامی گھکڑ قباٸل مغل بادشاہوں کے ساتھی اور ہمدارد تھے۔ اس لیۓ شیخ شاہ سوری کو ان سے بھی خطرہ تھا چنانچے کسی تصادم کی صورت میں تخفظ کے لیے یہ ضروری تھا۔یہ قلعہ جس جگہ تعمیر کیا گیاہے۔ یہ ایک بلندوبالا پہاڑ پر واقعہ ہے۔جو اردگرد کے ماخول پر نظر رکھنے کے لیےموزوں ہے۔فوجی دفاعی نقطہ نظر سے بھی اس قلعے کی اہمیت تھی اور یہاں سے پورے علاقے کو بااسانی نظر میں رکھا جاسکتاتھا اس قلعے کی تعمیر 1541 عیسوی میں شروع کی گی تھی۔ یہ سطح سمندر سے 810 میڑر بلند ہے۔اور تقریبانً 1200 کنال رقبے پر مشتعمل ہے۔ مستطیل شکل کے اس قلعے کی بیرونی دیواروں کی لمباٸی 4 کلو میڑ ہے۔ جن پر 68 واچ ٹاور(چوکی) اور 12 بڑے دروازے ہیں۔مظبوط اینٹیں اور گھارے سے تعمیر دیواروں کی انچاٸی 8 سے 18 میٹر تک ہے۔اور ہی 10 سے 13 میٹر موٹی بھی ہیں۔ ان میں اسطرح کے حفیہ مورچے اورجگہ بباٸی ہے جہاں سے بااسانی دشمن پر وار کیا جا ستکے۔
اہم دروازے
اس قلعے کے ٹوٹل 12 دروازے ہیں لیکن ہم چار دروازوں کا ذکر کریں گے۔ دروازوں میں سب سے مشہور اور اہم دروازہ جس کا نام سہیل گیٹ ہے یہ اس قلعے کا اہم اور داخلی دروازہ ہے جو ایک مقامی شحص شیح سہیل بخاری کے نام پر رکھا گیا تھا۔ ہہ قلعے کے جنوب مغرابی حصے میں واقعہ ہے اور یہ زیادہ تر شاہی آمدورفت کے لیۓ استعمال ہوتا تھا۔اس دروازے کی بلندی 70 فٹ اور چوڑاٸی 68 فٹ کے قریب ہے۔دروازے کے اوپر پھول پتیوں کے شکل کےنقشو نقار بناۓ گے ہیں۔
شاہ چن والی دروازہ
یہ دروازہ قلعلے کے مرکزی خصے کی طرف جاتا ہے چونکہ اس دروازے پر کام کرنے والے شاہ چن والی یعنی شاہ جہان سے منسوب کر دیا گیاہے۔یہ دروازہ تقریبانً 4 میڑ بلند ہے۔
قابلی دروازہ
اس دروازے کا نام افغانستان کے دارالخکومت قابل کی نسبت سے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ جب کھلتا ہے تو اس کا روح قابل کی طرہوتا ہے۔یہ دورو دروازہ ہے سیڑیوں کے زریعےشاہی مسجد سے منسلک ہے اس دروازے کی چوڑایٸ 3 میٹر ہے۔
قلعے کی اہم عمارتیں
یہ قلعہ چونکہ فوجی ضروریات اور اہم مقاصد کے لیۓ بنایا گیاتھا۔اس لیے اس میں بہت زیادہ تعمیرات نہیں کرواٸی گٸ۔ تاہم کجھ عمارتیں اسی ہیں جن کاذکر نا کرنا ان کی تایخی اہمیت کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ یہاں سب سے پہلے موجود ہے شاہی مسجد یہ مسجد قلعے کے جنوبی خصے میں قانلی دروازے کے ساتھواقعہ ہے اس مسجد میں نماز کے لیے جھوٹا سا صخن واقعہ ہے دوسری روایتی مساجدوں کی طرخ اس کے مینار بہت چھوٹے ہیں اس سے منتصل گیٹ کی طرف جاتی ہیں تاکہ ہنگامی خلات ہوں تو ہیاں سے بااسانی باہر نکلا جاسکے
قلعے کے اندر حوایلی مان سنگ کے بلکل قریب رانی محل موجود
ہے یہ ایک منزلہ عمارت ہے اس میں چار کمرے بناۓ گۓ ہیں تا ہم اس واقت صرف ایک کمرہ اپنی بنیادی اور اصل شکل میں موجود ہے۔ باقی تین کمرے گِر چکے ہیں۔تاہم اس کے اثار ضرور موجود ہیں۔ یہ کمرہ 8 باۓ 8 فٹ کا ہے اس کی بلندی 20 فٹ ہے اس کے اندرونی اور بیرونی دیواروں پر گل کاری جومیٹری کے نقشے بناۓ گیۓ ہیں
مغلیا دور اور قلعے کی حالت
1555 کو یہ قلعہ مغل بادشاہ ہمایوں کے ہاتھ ایا تا ہم انہوں نے رہنے یا اس کی تعمیر و ترقی کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی ہمایوں کے بعد بھی کوٸی مغل بادشاہ ایک رات یا ایک دن سے زیادہ اس قلعے میں نہیں ٹھرا اور نہ ہی اس کو زیادہ پسند کیا اگرچے مغل بادشاہ قلعے اور عمارتیں بنانا پسند کرتے تھے۔مگر اس قلعے کو توجہ نہیں دی گٸ ۔جس کی دو بڑی وجوہات سمجھ میں اتی ہیں ۔
وجہ نمبر 1
یہ قلعہ جس علاقے میں تعمیر کیا گیا تھاوہاں کے تمام امرا اور سردار مغلوں ہامی تھے۔اس لیے ان کو ان سے کوٸی خطرہ نہیں تھا لہذا کسی مغل بادشاہ نے نا تو ہیاں پر قیام کیا اور نہ کوٸی فوج رکھی۔اور نہ ہی اس کی تعمیر کی طرف توجہ دی ۔
وجہ نمبر 2
کہ اس کا رقبہ نسبتان کم تھایہاں بڑے بڑے باغات میدان اور بادشاہوں کی پسند کی چیزیں موجود نہیں تھی۔لہذا انہوں نے اس طرف توجہ نہیں دی تاہم مغلوں کے بعد مختلف بادشاہوں جن میں نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کانام زیادہ قبلِ زکر ہے انہوں نے اپنی ضورت اور مقصد کے لیۓ اس قلعے کو استعمال کیا۔
1825 میں یہ قلعہ سگھوں کے قبضے میں آیا اور 1849 تک انہی کے قبضے میں رہا 1849 سے لیکر 1947 تک ایڈمنسٹریٹر مقاصد کے لیے انگریزوں نے اس قلعے کو استعمال کیا۔اور آزادی کے بعد یہ قلعہ پاکستان کے خصے میں آیا
بین الاقوامی حیثیت
اس قلعے کی تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہوۓ یونسکو نے 1997 میں اس کو اپنی لیسٹ میں شامل کر لیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی اثاثہ ہے 2000 میں کجھ دیگر اداروں نے تنظیموں کے ساتھ مل کر اس قلعے کی تعمیر اور ترقی اور بہتری کے لیے کا م شروع کیا ہے اس تظیم کے کجھ لوگ اس قلعے میں انے والے لوگوں کو اس کی تاریخی اہمیت کے بارے میں بتاتے ہیں ۔اور اس قلعے کی تایخی اور سیاختی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں











تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں