خالد بن والید اور جنگ یرموک

 حضرت خالد

  نے دیکھا کہ رومی تعداد کے لحاظ سے بہت زیادہ ہیں اور پھر جنگی اصول کے مطابق اپنی فوجوں کو ترتیب دئیے ہوئے ہیں۔ مسلمان تعداد کے اعتبار سے ان سے کم ہیں اور پھر جتنے ہیں وہ بھی ایک جھنڈے تلے نہیں۔ اس صورت میں اندیشہ تھا کہ لڑائی بہت طول پکڑے اور پھر بھی دشمن کو نقصان نہ پہنچایا جاسکے اس لیے آپ نے اسلامی لشکر کے سرداروں کو جمع کیا اور یہ تقریر فرمائی یہ لڑائی ایک عظیم الشان مذہبی لڑائی ہے۔آج ہمیں فخر اور نافرمانی کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے اور خالص اللہ کے لیے اپنی کوششیں صرف کردینی چاہئیں دیکھو  دشمن تنظیم وترتیب کے ساتھ میدانِ جنگ میں موجود ہے اور تم متفرق ومنتشر ہو۔ تمہارا یہ انتشار تمہارے لیے دشمن کے حملہ سے زیادہ نقصان دہ ہے اور دشمن کے لیے اس کی مدد سے زیادہ مفید ہے، بہتر یہ ہے کہ ساری فوج ایک امیر کی کمان میں دے دی جائے اور امارت فوج کو باری باری تقسیم کرلیا جائے ایک دن ایک سردار امیر ہو اور دوسرے دن دوسرا ۔ اگر یہ رائے پسند ہے تو آج مجھے امیر بن جانےدواسلامی فوج کے سرداروں نے حضرت خالد کی رائے کو پسند کیا اور انہیں امیر لشکر تسلیم کرلیااسلامی فوج کی تنظیم رومی بڑی آن بان کے ساتھ میدان میں صف آرا ہوئے۔ حضرت خالد بن ولید  نے اسلامی فوج کو بھی اس طرح ترتیب دیا کہ پہلے کبھی نہ دی گئی تھی۔ آپ نے کل فوج کو چالیس دستوں پر تقسیم کیا۔کچھ دستے قلب میں رکھے  ان کا سردار حضرت ابو عبیدہ  کو مقرر کیا کچھ دستے میمنہ پر رکھے ان کا سردار عمرو بن العاص  اور شرحبیل بن حسنہ  کومقرر کیا۔ کچھ دستے میسرہ پر رکھے، ان کا سردار یزید بن ابی سفیان  کو مقرر کیا کچھ دستوں پر قعقاع بن عمرو اور مذعور بن غدی وغیرہ کو سردار مقرر کیا ۔ آپ نے ہر ہردستے پر جس میں تقریباً ایک ایک ہزار سپاہی تھے الگ الگ افسر مقرر کیے یہ افسر قلب ، میمنہ ومیسرہ کے سرداروں کے ماتحت تھے۔ ابو سفیان نقیب لشکر مقرر ہوئے ۔ یہ ساری فوج میں پھر پھر کر تقریر کرتے تھے اور سپاہیوں کو جوش دلاتے تھے ۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

23 march why we celebrate ?

کرونا وائرس سے کیسے بچیں